وہ خامشی ہے کہ خود سے ڈرا ہوا ہوں میں

بمل کرشن اشک

وہ خامشی ہے کہ خود سے ڈرا ہوا ہوں میں

بمل کرشن اشک

MORE BYبمل کرشن اشک

    وہ خامشی ہے کہ خود سے ڈرا ہوا ہوں میں

    پتہ نہیں کسے آواز دے رہا ہوں میں

    کچھ ایسے ڈھب سے گھٹا ہے گئے دنوں میں چاند

    مرے یہ دھیان پڑا ہے کہ مٹ رہا ہوں میں

    پلٹ رہوں گا ابھی گھر بہت اداس نہ ہو

    پہاڑیوں سے گزرتی ہوئی صدا ہوں میں

    ہوئی جو شام تو دل میں اداسیاں اتریں

    چراغ جلنے لگے ہیں تو بجھ گیا ہوں میں

    وہی شباب وہی بیکسی کبھی پہلے

    گمان ہے کہ اسی راہ سے گیا ہوں میں

    وہ ایک جسم وہی کوندتا لپکتا جسم

    کہ جس کے رنگ کی نسبت سے جوگیا ہوں میں

    کبھی کبھی مرے سپنوں کو چھین لیتی ہے

    وہ اک نگاہ کہ جس کا لٹا ہوا ہوں میں

    لبوں پہ ترک تعلق کی بات آتے ہی

    ہر ایک زخم پکارا ابھی ہرا ہوں میں

    کچھ ایسے ڈھب سے مجھے لوگ اشکؔ کہتے ہیں

    کہ اپنے نام سے بیگانہ ہو چلا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY