وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

آنس معین

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

آنس معین

MORE BYآنس معین

    وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

    بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے

    آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی

    آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے

    وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا

    پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

    میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں

    میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے

    شور تو یوں اٹھا تھا جیسے اک طوفاں ہو

    سناٹے میں جانے کیسے ڈوب گیا ہے

    آخری خواہش پوری کر کے جینا کیسا

    آنسؔ بھی ساحل تک آ کے ڈوب گیا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY