وہ لب کہ جیسے ساغر صہبا دکھائی دے

کرشن بہاری نور

وہ لب کہ جیسے ساغر صہبا دکھائی دے

کرشن بہاری نور

MORE BY کرشن بہاری نور

    وہ لب کہ جیسے ساغر صہبا دکھائی دے

    جنبش جو ہو تو جام چھلکتا دکھائی دے

    دریا میں یوں تو ہوتے ہیں قطرے ہی قطرے سب

    قطرہ وہی ہے جس میں کہ دریا دکھائی دے

    کیوں آئینہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہیں

    جس آئینے میں عکس نہ اس کا دکھائی دے

    اس تشنہ لب کے نیند نہ ٹوٹے دعا کرو

    جس تشنہ لب کو خواب میں دریا دکھائی دے

    کیسی عجیب شرط ہے دیدار کے لیے

    آنکھیں جو بند ہوں تو وہ جلوہ دکھائی دے

    کیا حسن ہے جمال ہے کیا رنگ روپ ہے

    وہ بھیڑ میں بھی جائے تو تنہا دکھائی دے

    RECITATIONS

    کرشن بہاری نور

    کرشن بہاری نور

    کرشن بہاری نور

    وہ لب کہ جیسے ساغر صہبا دکھائی دے کرشن بہاری نور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY