وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں
وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں
تو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں
در پیر مغاں پر اس طرح مے خوار بیٹھے ہیں
کہ کچھ مخمور بیٹھے ہیں تو کچھ سرشار بیٹھے ہیں
اگر وہ گالیاں دینے پر آمادہ ہیں خلوت میں
تو ہم بھی عرض مطلب کے لیے تیار بیٹھے ہیں
گلا میں کاٹ لوں خود اک اشارہ ہو جو ابرو کا
وہ کیوں میرے لیے کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں
سہارا جب دیا ہے کچھ امید وصل نے آ کر
تو اٹھ کر بستر غم سے ترے بیمار بیٹھے ہیں
حجاب ان سے وہ میرا پوچھنا سر رکھ کے قدموں پر
سبب کیا ہے جو یوں مجھ سے خفا سرکار بیٹھے ہیں
- کتاب : Pathan Shayraat ka Tazkira (Pg. 117)
- Author : Khan Mohammad Atif
- مطبع : Khan Mohammad Atif (1983)
- اشاعت : 1983
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.