وہ میرے وجود کا صلہ ہے

جاوید منظر

وہ میرے وجود کا صلہ ہے

جاوید منظر

MORE BYجاوید منظر

    وہ میرے وجود کا صلہ ہے

    یا روح کے واسطے ردا ہے

    کس دل سے لہو کی فصل بوئیں

    جب خون ہی خون سے جدا ہے

    ہر شخص ہے دشمنوں کی زد پر

    اب مجھ سا کوئی کہاں رہا ہے

    ہر سمت اداسیاں ملی ہیں

    حالات سے بس یہی گلہ ہے

    چہرے پہ مسرتیں سجائے

    جو بھی غموں میں پل رہا ہے

    منظرؔ اسے جانتا میں کیسے

    جو مجھ کو کبھی نہیں ملا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY