وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہے

آر پی شوخ

وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہے

آر پی شوخ

MORE BYآر پی شوخ

    وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہے

    کیا چلوں جب کوئی محور سے علیحدہ کر دے

    اب جو ٹوٹا ہوں تو اس آنکھ کا جادو سمجھا

    وہ تو چنگاری بھی پتھر سے علیحدہ کر دے

    کیا کہوں اس سے بچھڑنے کی اذیت کیا ہے

    جیسے گردن ہی کوئی سر سے علیحدہ کر دے

    ایک مدت سے غم دہر ہے اشکوں میں گھلا

    آ کے یہ ریت سمندر سے علیحدہ کر دے

    ایک مظلوم زمانہ ہوں میں بد بخت نہیں

    غم دنیا کو مقدر سے علیحدہ کر دے

    تنگ صحرا ہے جو اندر یہ طلب ہے اس کی

    در و دیوار کو اب گھر سے علیحدہ کر دے

    اسے دیکھوں کہ میں رنگوں کا وہ منظر دیکھوں

    نگہ شوق اسے منظر سے علیحدہ کر دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے