وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا

زبیر علی تابش

وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا

زبیر علی تابش

MORE BYزبیر علی تابش

    وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا

    میں اس مذاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا

    جب اس کی بزم میں دار و رسن کی بات چلی

    میں جھٹ سے اٹھ گیا اور آگے آ کے بیٹھ گیا

    درخت کاٹ کے جب تھک گیا لکڑ ہارا

    تو اک درخت کے سائے میں جا کے بیٹھ گیا

    تمہارے در سے میں کب اٹھنا چاہتا تھا مگر

    یہ میرا دل ہے کہ مجھ کو اٹھا کے بیٹھ گیا

    جو میرے واسطے کرسی لگایا کرتا تھا

    وہ میری کرسی سے کرسی لگا کے بیٹھ گیا

    پھر اس کے بعد کئی لوگ اٹھ کے جانے لگے

    میں اٹھ کے جانے کا نسخہ بتا کے بیٹھ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY