وہ شب غم جو کم اندھیری تھی

اسلم عمادی

وہ شب غم جو کم اندھیری تھی

اسلم عمادی

MORE BYاسلم عمادی

    وہ شب غم جو کم اندھیری تھی

    وہ بھی میری انا کی سبکی تھی

    غم مری زندگی میں ٹوٹ گرا

    ورنہ یہ شور دار ندی تھی

    دن بھی شب رنگ بن گئے اپنے

    پہلے سورج سے آنکھ ملتی تھی

    کیا مقالات عاشقی پڑھتے

    بزم میں ہم نے آہ کھینچی تھی

    جل رہے تھے ہرے بھرے جنگل

    ایسی بے وقت آگ پھیلی تھی

    میں کھڑا تھا اکھڑتے پتھر پر

    وہ اسی طرح شانت لگتی تھی

    اس لیے بے کراں میں جا پہنچے

    دور تک رہ گزر اندھیری تھی

    اس لیے شہر میں رہے بیتاب

    تاب کاری ہوا میں پھیلی تھی

    چند روز اور منتظر رہتے

    ویسے مل کر بھی جان دینی تھی

    شب رنج و محن کا ذکر نہ کر

    اس کی ہر اک گھڑی نشیلی تھی

    ہم بھی اسلمؔ اسی گمان میں ہیں

    ہم نے بھی کوئی زندگی جی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY