وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

ہجر ناظم علی خان

وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

ہجر ناظم علی خان

MORE BYہجر ناظم علی خان

    وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

    تو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گا

    خبر نہ تھی کہ مٹیں گے جوان ہوتے ہی

    اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا

    پڑے گا عکس جو ساقی کی چشم میگوں کا

    نظر شراب میں جام شراب آئے گا

    ہزار حیف کہ سر نامہ بر کا آیا ہے

    سمجھ رہے تھے کہ خط کا جواب آئے گا

    کلیم ہاں دل بیتاب کو سنبھالے ہوئے

    سنا ہے طور پہ وہ بے نقاب آئے گا

    جو آرزو ہے ہماری وہ کہہ تو دیں لیکن

    خیال یہ ہے کہ تم کو حجاب آئے گا

    یہ شوخیاں تری اس کم سنی میں اے ظالم

    قیامت آئے گی جس دن شباب آئے گا

    کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں

    کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا

    چلا ہے ہجرؔ سیہ کار بزم جاناں کو

    ذلیل ہو کے یہ خانہ خراب آئے گا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY