وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو

بشیر بدر

وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو

    بہت ممکن یہ وہ ہی آدمی ہو

    میں ٹھہرا آبشار شہر پر فن

    گھنے جنگل کی تم بہتی ندی ہو

    بہت مصروف ہے انگشت نغمہ

    مگر تم تو ابھی تک بانسری ہو

    مری آنکھوں میں ریگستاں بسے ہیں

    کوئی ایسے میں ساون کی جھڑی ہو

    دیا جو بجھ چکا ہے پھر جلانا

    بہت محسوس جب میری کمی ہو

    یہ شب جیسے کوئی بے ماں کی بچی

    اکیلے روتے روتے سو گئی ہو

    وہ دریا میں نہانا چاندنی کا

    کہ چاندی جیسے گھل کر بہہ رہی ہو

    کہانی کہنے والے کہہ رہے ہیں

    مگر جانے وہی جس پر پڑی ہو

    میاں! دیوان کا مت رعب ڈالو

    پڑھو کوئی غزل جو واقعی ہو

    غزل وہ مت سنانا ہم کو شاعر

    جو بے حد سامعیں میں چل چکی ہو

    مآخذ:

    • Book: Ikayee (Pg. 114)
    • Author: Bashir Badar
    • مطبع: M.R. Publications (2011)
    • اشاعت: 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites