وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا

اظہر عنایتی

وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا

اظہر عنایتی

MORE BY اظہر عنایتی

    وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا

    اس کو خط لکھنا تو میرا بھی حوالہ دینا

    اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس

    کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرا دینا

    اس قیامت کی جب اس شخص کو آنکھیں دی ہیں

    اے خدا خواب بھی دینا تو سنہرا دینا

    اپنی تعریف تو محبوب کی کمزوری ہے

    اب کے ملنا تو اسے ایک قصیدہ دینا

    ہے یہی رسم بڑے شہروں میں وقت رخصت

    ہاتھ کافی ہے ہوا میں یہاں لہرا دینا

    ان کو کیا قلعے کے اندر کی فضاؤں کا پتا

    یہ نگہبان ہیں ان کو تو ہے پہرا دینا

    پتے پتے پہ نئی رت کے یہ لکھ دیں اظہرؔ

    دھوپ میں جلتے ہوئے جسموں کو سایا دینا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY