وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے

حفیظ بنارسی

وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے

حفیظ بنارسی

MORE BYحفیظ بنارسی

    وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے

    جادو ان کی نگاہوں کے چلتے رہے

    مشکلوں نے بہت راہ روکی مگر

    جن کو منزل کی دھن تھی وہ چلتے رہے

    میں انہیں بھی گلے سے لگاتا رہا

    میرے بارے میں جو زہر اگلتے رہے

    ہم تو قائم رہے اپنی ہر بات پر

    تم برنگ زمانہ بدلتے رہے

    یاد کے جگنوؤں سے وہ عالم رہا

    دیپ بجھتے رہے دیپ جلتے رہے

    ہم نے دامن نہ اپنا بھگویا حفیظؔ

    دل میں طوفان لاکھوں مچلتے رہے

    مأخذ :
    • کتاب : Safeer-e-shar-e-dil (Pg. 435)
    • Author : Hafeez Banarsi
    • مطبع : Hafeez Banarsi (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY