وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے

عرفان صدیقی

وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے

    پھر اس سے آج وہی رنج بے سبب کیا ہے

    تم اس کا وار بچانے کی فکر میں کیوں ہو

    وہ جانتا ہے مسیحائیوں کا ڈھب کیا ہے

    دبیز کہر ہے یا نرم دھوپ کی چادر

    خبر نہیں ترے بعد اے غبار شب کیا ہے

    دکھا رہا ہے کسے وقت ان گنت منظر

    اگر میں کچھ بھی نہیں ہوں تو پھر یہ سب کیا ہے

    اب اس قدر بھی سکوں مت دکھا بچھڑتے ہوئے

    وہ پھر تجھے نہ کبھی مل سکے عجب کیا ہے

    میں اپنے چہرے سے کس طرح یہ نقاب اٹھاؤں

    سمجھ بھی جا کہ پس پردۂ طرب کیا ہے

    یہاں نہیں ہے یہ دستور گفتگو عرفانؔ

    فغاں سنے نہ کوئی حرف زیر لب کیا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY