وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں

منظور ہاشمی

وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں

    تو حرف حرف کو حسن تمام کرتے ہیں

    گھنے درختوں کے سائے کی عمر لمبی ہو

    کہ ان کے نیچے مسافر قیام کرتے ہیں

    اسے پسند نہیں خواب کا حوالہ بھی

    تو ہم بھی آنکھ پہ نیندیں حرام کرتے ہیں

    نہ خوشبوؤں کو پتہ ہے نہ رنگ جانتے ہیں

    پرند پھولوں سے کیسے کلام کرتے ہیں

    رواں دواں ہیں ہوا پر سواریاں کیسی

    جنہیں درخت بھی جھک کر سلام کرتے ہیں

    چمن میں جب سے اسے سیر کرتے دیکھ لیا

    اسی ادا سے غزالاں خرام کرتے ہیں

    اب اس کو یاد نہ ہوگا ہمارا چہرہ بھی

    تمام شاعری ہم جس کے نام کرتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Sukhan Aabaad (Pg. 5)
    • Author : Manzoor Hashmi
    • مطبع : Manzoor Hashmi (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY