یا رب ہے آج ان کے خود آنے کا کیا سبب
یا رب ہے آج ان کے خود آنے کا کیا سبب
الفت جتا کے مجھ کو منانے کا کیا سبب
منظور میرے رونے پہ ہنسنا اگر نہ تھا
غیروں سے ہنس کے مجھ کو رلانے کا کیا سبب
ثابت ہوا کہ وصل میں ہے عذر آپ کو
موقع کے وقت ورنہ بہانے کا کیا سبب
مانا کہ آپ آنے میں جاتی ہے شان حسن
پر جب بلاؤں میں تو نہ آنے کا کیا سبب
شاید تمہاری ظلم کی عادت ہی ہو گئی
عاشق کو ورنہ روز ستانے کا کیا سبب
پوچھا جو میں نے کتنے ہیں عاشق ترے کہا
کیوں پوچھتے ہو حال زمانے کا کیا سبب
صاحب خطا معاف مجھے شک تو کچھ نہیں
بے وقت لیکن آج نہانے کا کیا سبب
اے دل پیام وصل یہ ان کی طرف سے ہے
اس وقت ورنہ بام پہ آنے کا کیا سبب
اے سحرؔ کیا ہے دل کہیں آیا بتائیے
کوئے بتاں میں روز کے جانے کا کیا سبب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.