یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

فارغ بخاری

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

فارغ بخاری

MORE BY فارغ بخاری

    یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

    سویا ہوا درد جاگ اٹھا ہے

    مٹ بھی چکے نقش پا مگر دل

    مہکی ہوئی چاپ سن رہا ہے

    جلتی ہوئی منزلوں کا راہی

    اب اپنا ہی سایہ ڈھونڈھتا ہے

    دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن

    اندر سے مکان گر رہا ہے

    پوچھے ہے چٹک کے غنچۂ زخم

    اے اجنبی تیرا نام کیا ہے

    سوچوں کے اتھاہ پانیوں میں

    دل برف کا پھول بن گیا ہے

    کس شعلہ بدن کی یاد آئی

    دامان خیال جل اٹھا ہے

    تخلیق میں خود چھپا ہوا ہے

    فن کار بھی ًفطرتا خدا ہے

    مرجھا کے ہر ایک زرد پتہ

    آویزۂ گوش بن گیا ہے

    سوچا ہے یہ میں نے پی کے اکثر

    نشے میں یہ روشنی سی کیا ہے

    شاخوں پہ پجارنیں سجی ہیں

    ہر پھول چمن کا دیوتا ہے

    صحرائے وفا میں میرے فن کی

    خوشبو کا چراغ جل رہا ہے

    پھر پائیں گے خاک سے نمو ہم

    فارغؔ یہ اصول ارتقا ہے

    اظہار کا جس کو حوصلہ ہے

    وہ اپنی صدی کا دیوتا ہے

    منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی

    جو اپنی زباں سے بولتا ہے

    وہ پیڑ ہے زندگی کی عظمت

    جو تند ہوا سے لڑ رہا ہے

    قاتل کو دعائیں دو کہ فارغؔ

    ہر زخم وفا غزل سرا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 298)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY