یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے

اسلم کولسری

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے

اسلم کولسری

MORE BYاسلم کولسری

    یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے

    مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے

    جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں

    پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے

    جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں

    چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے

    دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے

    ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے

    جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک

    دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے

    یعنی ترتیب کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے

    اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے

    عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ

    اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 02.02.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY