یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے

نور محمد یاس

یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے

نور محمد یاس

MORE BY نور محمد یاس

    یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے

    مجھے سمیٹے ہوئے خود غبار میرا ہے

    نہ چھین پائے گا مجھ سے کوئی نقوش خیال

    یہ پھول میرے ہیں یہ شاخسار میرا ہے

    چلوں تو دھوپ کا بادل ہوں میں خود اپنی جگہ

    رکوں تو ہر شجر سایہ دار میرا ہے

    پڑھوں تو نامہ کسی کا ہے چہرہ چہرہ مجھے

    لکھوں تو خامہ حقیقت نگار میرا ہے

    جگہ نہ دے مجھے پلکوں پہ کم نہیں یہ بھی

    کہ موجزن تری آنکھوں میں پیار میرا ہے

    حصار باندھ لے مجھ میں کہا اداسی نے

    کوئی نہ آئے یہاں یہ حصار میرا ہے

    نہ جانے کب سے یہاں منتظر تھا میں اے یاسؔ

    خبر جب آئی وہاں انتظار میرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY