یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

    گیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیا

    نہ ہو گرم اس قدر اے شمع اس میں تیرا کیا بگڑا

    اگر جلنے کو اک پروانۂ آتش بجاں آیا

    خدا جانے ملا کیا مجھ کو جا کر ان کی محفل میں

    کہ باصد نامرادی بھی وہاں سے شادماں آیا

    جمایا رنگ اپنا میں نے مٹ کر تیرے کوچے میں

    یقین عشق میرا اب تو تجھ کو بدگماں آیا

    نہ ہو آزردہ تو آزردگی کا کون موقع ہے

    اگر محفل میں تیری وحشتؔ آزردہ جاں آیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY