یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے

حبیب کیفی

یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے

حبیب کیفی

MORE BYحبیب کیفی

    یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے

    کہو گے تو سارے جہاں سے چلیں گے

    کماں سے چلے ہیں نہ جو تیر اب تک

    وہی تیر تیری زباں سے چلیں گے

    اچانک ہی جن کو ٹھہرنا پڑا ہے

    مرے پاؤں کے وہ نشاں سے چلیں گے

    جنہیں شوق منصب و انعام ہے وہ

    جھکا کر نظر بے زباں سے چلیں گے

    مٹا دیں گے ہستی و بستی تمہاری

    وہ نالے جو درد نہاں سے چلیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY