یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے
یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے
کہو گے تو سارے جہاں سے چلیں گے
کماں سے چلے ہیں نہ جو تیر اب تک
وہی تیر تیری زباں سے چلیں گے
اچانک ہی جن کو ٹھہرنا پڑا ہے
مرے پاؤں کے وہ نشاں سے چلیں گے
جنہیں شوق منصب و انعام ہے وہ
جھکا کر نظر بے زباں سے چلیں گے
مٹا دیں گے ہستی و بستی تمہاری
وہ نالے جو درد نہاں سے چلیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.