یہاں تکرار ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے

عرفان ستار

یہاں تکرار ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے

عرفان ستار

MORE BYعرفان ستار

    یہاں تکرار ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا

    ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کر دیں

    تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو

    سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو

    تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی

    کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ

    بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب

    کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا

    تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    اذیت تھی مگر لذت بھی کچھ اس سے سوا تھی

    اذیت ہے اذیت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں

    سو اب ان کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی

    تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    شمار و بے شماری کے تردد سے گزر کر

    مآل عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہاں تکرار ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY