یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا

شاد عظیم آبادی

یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا

    کیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کا

    کیا کہوں نزع میں میں اپنی خموشی کا سبب

    رنج ہے وقت کے بے کار گزر جانے کا

    حسب معمول چڑھایا نہیں ناصح کوئی جام

    یہ سبب بھی ہے مرے منہ کے اتر جانے کا

    تجھ سے رخصت ہے مری جلد بس اے پیر مغاں

    منتظر ہوں فقط اس جام کے بھر جانے کا

    موتیوں کا تھا خزانہ مری چشم تر میں

    غم ہے دل کو انہیں دانوں کے بکھر جانے کا

    لے چلی موت بصد شوق ہمیں ساتھ اپنے

    نہ ہوا جب کوئی ساماں ترے گھر جانے کا

    تار ہوں آنسوؤں کے آہ کے ہرکارے ہوں

    سلسلہ کوئی تو ان تک ہو خبر جانے کا

    ناامیدی ہمیں پہنچاتی ہے پستی کی طرف

    یہی زینہ تو ہے کوٹھے سے اتر جانے کا

    دن بہ دن پاؤں کی طاقت میں کمی ہونے لگی

    شادؔ ساماں کرو اس دشت سے گھر جانے کا

    مآخذ :
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 42)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY