یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے

اسعد بدایونی

یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے

اسعد بدایونی

MORE BYاسعد بدایونی

    یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے

    مزاج شہر بھی بدلتا جاتا ہے

    رتیں قدیم تواتر سے آتی جاتی ہیں

    درخت پتوں کے زیور بدلتا جاتا ہے

    افق پہ کیوں نہیں رکتی کوئی کرن پل بھر

    یہ کون تیزی سے منظر بدلتا جاتا ہے

    غبار وقت میں سب رنگ گھلتے جاتے ہیں

    زمانہ کتنے ہی تیور بدلتا جاتا ہے

    چھڑی ہوئی ہے ازل سے دل و نگاہ میں جنگ

    محاذ ایک ہے لشکر بدلتا جاتا ہے

    یہ کس کا ہاتھ ہے جو بے چراغ راتوں میں

    فصیل شہر کے پتھر بدلتا جاتا ہے

    پرند پیڑ سے پرواز کرتے جاتے ہیں

    کہ بستیوں کا مقدر بدلتا جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY