یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے

سید عابد علی عابد

یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے

سید عابد علی عابد

MORE BYسید عابد علی عابد

    یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے

    چراغ دل کہ سلگتا ہے آج سب کے لئے

    کبھی میں جرأت اظہار مدعا تو کروں

    کوئی جواز تو ہو لطف بے سبب کے لئے

    افق سے چاند کی چمپا کلی ابھرتی ہے

    سجائے جاتے ہیں زیور نگار شب کے لئے

    ترے گدا نے بھی ساغر کا نقرئی آنچل

    کہیں سے مانگ لیا دختر عنب کے لئے

    تمام عمر بہ فیض نگاہ لالہ رخاں

    سند رہا ہوں اشارات چشم و لب کے لئے

    چمن سے پھول کے دھوکے میں چن لئے شعلے

    کف وفا کے لئے دامن طلب کے لئے

    کہیں جو پرسش احوال پر وہ مائل ہوں

    کہ ہم نے دل کو سنبھالا ہوا ہے جب کے لئے

    مجھے خبر ہے بہت سے متاع ذوق نظر

    دکان کاکل و رخسار و چشم و لب کے لئے

    ستارہ صبح کا روشن تھا شام سے عابدؔ

    یہی تھی موت حریفان بزم شب کے لئے

    مآخذ :
    • کتاب : NUQOOSH (Yearly) (Pg. 160)
    • Author : Mohd. Fufail
    • مطبع : Idarah-e-Farogh-e-urdu, Lahore (Jan. Feb. 1957,Issue 61,62)
    • اشاعت : Jan. Feb. 1957,Issue 61,62

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY