یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود

ظفر اقبال

یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود

    پوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجود

    اک دھوپ سی تنی ہوئی بادل کے آر پار

    اک پیاس ہے رکی ہوئی جھرنے کے باوجود

    اس کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہ تھی مجھے

    مصروف تھا میں کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود

    پہلا بھی دوسرا ہی کنارہ ہو جس طرح

    حالت وہی ہے پار اترنے کے باوجود

    اپنی طرف ہی رخ تھا وہاں واردات کا

    الزام اس کے نام پہ دھرنے کے باوجود

    حیراں ہوں مجھ میں اتنی یہ ہمت کہاں سے آئی

    کر ہی گیا ہوں کام جو ڈرنے کے باوجود

    ہونا پڑا نہ ہوتے ہوئے بھی مجھے یہاں

    کچھ یاد رہ گیا ہوں بسرنے کے باوجود

    جیسا بھی یہ سفر ہو ذرا غور کیجئے

    کیسا رواں دواں ہوں ٹھہرنے کے باوجود

    نکلا نہیں ہے کوئی نتیجہ یہاں ظفرؔ

    کرنے کے باوجود نہ بھرنے کے باوجود

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY