یقین ہے کہ گماں ہے مجھے نہیں معلوم

ابرار احمد

یقین ہے کہ گماں ہے مجھے نہیں معلوم

ابرار احمد

MORE BY ابرار احمد

    یقین ہے کہ گماں ہے مجھے نہیں معلوم

    یہ آگ ہے کہ دھواں ہے مجھے نہیں معلوم

    یہ ہر طرف ہے کوئی محفل طرب برپا

    کہ بزم غم زدگاں ہے مجھے نہیں معلوم

    لیے تو پھرتا ہوں اک موسم وجود کو میں

    بہار ہے کہ خزاں ہے مجھے نہیں معلوم

    وہ رنگ گل تو اسی خاک میں گھلا تھا کہیں

    مگر مہک وہ کہاں ہے مجھے نہیں معلوم

    خبر تو ہے کہ یہیں قریۂ ملال بھی ہے

    یہ کون محو فغاں ہے مجھے نہیں معلوم

    میں تجھ سے دور اسی دشت نا رسی میں ہوں گم

    ادھر تو نوحہ کناں ہے مجھے نہیں معلوم

    یہ داغ عشق جو مٹتا بھی ہے چمکتا بھی ہے

    یہ زخم ہے کہ نشاں ہے مجھے نہیں معلوم

    گزرتا جاتا ہوں اک عرصۂ گریز سے میں

    یہ لا مکاں کہ مکاں ہے مجھے نہیں معلوم

    رواں دواں تو ہے یہ جوئے زندگی ہر دم

    مگر کدھر کو رواں ہے مجھے نہیں معلوم

    یہ کشمکش جو من و تو کے درمیاں ہے سو ہے

    میان سود و زیاں ہے مجھے نہیں معلوم

    یہ کوئے خاک ہے یا پھر دیار خواب کوئی

    زمین ہے کہ زماں ہے مجھے نہیں معلوم

    یہیں کہیں پہ وہ خوش رو تھا آج سے پہلے

    مگر وہ آج کہاں ہے مجھے نہیں معلوم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یقین ہے کہ گماں ہے مجھے نہیں معلوم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY