یقیں کی دھوپ میں سایہ بھی کچھ گمان کا ہے

سلیم صدیقی

یقیں کی دھوپ میں سایہ بھی کچھ گمان کا ہے

سلیم صدیقی

MORE BYسلیم صدیقی

    یقیں کی دھوپ میں سایہ بھی کچھ گمان کا ہے

    یہی تو وقت مسافر کے امتحان کا ہے

    پلٹ رہا ہے زمانہ صدائے حق کی طرف

    جہان فکر میں چرچا مری اذان کا ہے

    اسی کے خوف سے لرزاں ہے دشمنوں کا ہجوم

    وہ ایک تیر جو ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

    یہی کہیں پہ وفاؤں کی قبر گاہ بھی تھی

    یہی کہیں سے تو رستہ ترے مکان کا ہے

    اک ایک حرف کی رکھنی ہے آبرو مجھ کو

    سوال دل کا نہیں ہے مری زبان کا ہے

    جو ایک چھوٹا سا دل ہے سلیمؔ سینے میں

    وہ آفتاب محبت کے آسمان کا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY