یہ اچھا ہے کہ یہ اچھا نہیں ہے

سید سروش آصف

یہ اچھا ہے کہ یہ اچھا نہیں ہے

سید سروش آصف

MORE BYسید سروش آصف

    یہ اچھا ہے کہ یہ اچھا نہیں ہے

    جو اس سے اب کوئی رشتہ نہیں ہے

    وہ ہے ویسا کی اب ویسا نہیں ہے

    اسے اک عمر سے دیکھا نہیں ہے

    رہا ہو کر قفس سے کیا کرے گا

    پرندے نے کبھی سوچا نہیں ہے

    نہ پوچھو وقت کی رفتار ہم سے

    گزرتا ہے مگر دکھتا نہیں ہے

    مجھے مقتل میں روکا ہے یہ کہہ کر

    تمہیں اب جان کا خطرا نہیں ہے

    سبھی جنت میں جانا چاہتے ہیں

    یہ دوزح کے لیے اچھا نہیں ہے

    خوشی کیوں پھر رہی ہے منہ پھلائے

    مرا اس سے کوئی جھگڑا نہیں ہے

    اسے پتھر کے ہو جانے کا ڈر تھا

    پلٹ کے اس لئے دیکھا نہیں ہے

    یہ کوئے عشق ہے اس میں سے آصفؔ

    نکلنے کا کوئی راستا نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY