یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہو

سید عابد علی عابد

یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہو

سید عابد علی عابد

MORE BYسید عابد علی عابد

    یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہو

    ادا شناس تو ہے آنکھ خونچکاں بھی تو ہو

    خدا خفا ہے تو سچے ہیں ناصحان عزیز

    ہمارے لب پہ کبھی شکوۂ بتاں بھی تو ہو

    یہ رنگ و نکہت و ترکیب و لفظ خیرہ سری

    ز راہ دیدہ بہ دل موج خوں رواں بھی ہو

    ہمیں بھی نغمہ گری پر ہے ناز بات تو کر

    ہمیں بھی جاں نہیں پیاری ہے امتحاں بھی تو ہو

    ابھی تو ہوں در و دیوار ہی سے محو کلام

    حریف دولت غم کوئی راز داں بھی تو ہو

    قتیل ناز ہوں اے وائے اعتماد وفا

    وہ التفات کرے پہلے بد گماں بھی تو ہو

    کسی کو ان سے محبت کسی کو مجھ سے حسد

    ملیں وہ مجھ سے مگر کوئی درمیاں بھی تو ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY