یہ اور بات ہے کچھ غم جہاں جہاں نہ ہوا

عبدالغفار عزم

یہ اور بات ہے کچھ غم جہاں جہاں نہ ہوا

عبدالغفار عزم

MORE BYعبدالغفار عزم

    یہ اور بات ہے کچھ غم جہاں جہاں نہ ہوا

    ہمارے حال کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا

    ہوئے ہو جاں بہ لب اب ہوگا کیا تمنا کا

    جہاں پہ ڈھونڈتے ہو دل اگر وہاں نہ ہوا

    ملے جو جرم وفا کی سزا یہیں پہ ملے

    حساب اپنا کہاں ہوگا جو یہاں نہ ہوا

    نہیں ہیں آنسو ہی کوئی زباں مرے دل کی

    ہے ایسا اشک بھی آنکھوں سے جو رواں نہ ہوا

    ہوا کیا جانیے دل کو مرے شب تاریک

    ہزاروں داغ مگر ایک بھی عیاں نہ ہوا

    چڑھایا دار پہ اور کر دیا مجھے زندہ

    یہ اور کچھ ہوا حسرت ہے امتحاں نہ ہوا

    سنا رہے ہو یوں وحشت میں حال غم جو عزمؔ

    ہوا وہ نالۂ دل درد کا بیاں نہ ہوا

    مآخذ:

    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 417)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY