یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی

زعیم رشید

یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی

زعیم رشید

MORE BYزعیم رشید

    یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی

    غزل کو ہرگز غزل سنانا نہیں پڑے گی

    جو وہ ملا تو میں خرچ کر دوں گا ایک پل میں

    بدن کی خوشبو مجھے بچانا نہیں پڑے گی

    تجھے بیاہوں تو دو قبیلے قریب ہوں گے

    کسی کو بندوق بھی اٹھانا نہیں پڑے گی

    میں اپنے لہجے کا ہاتھ تھامے نکل پڑا ہوں

    کسی کو آواز بھی لگانا نہیں پڑے گی

    میں اپنی ہر اک سیاہ بختی کو جانتا ہوں

    زعیمؔ طوطے کو فال اٹھانا نہیں پڑے گی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    زعیم رشید

    زعیم رشید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY