یہ بات تو نہیں ہے کہ میں کم سواد تھا

حمایت علی شاعر

یہ بات تو نہیں ہے کہ میں کم سواد تھا

حمایت علی شاعر

MORE BYحمایت علی شاعر

    یہ بات تو نہیں ہے کہ میں کم سواد تھا

    ٹوٹا ہوں اس بنا پہ کہ میں کج نہاد تھا

    الزام اپنی موت کا موسم پہ کیوں دھروں

    میرے بدن میں میرے لہو کا فساد تھا

    اب میں بھی جل کے راکھ ہوں میرے جہاز بھی

    کل میرا نام طارق ابن زیاد تھا

    ایماں بھی لاج رکھ نہ سکا میرے جھوٹ کی

    اپنے خدا پہ کتنا مجھے اعتماد تھا

    گہرے سمندروں میں بھی پتھر ملے مجھے

    تھا میں گہر شناس مگر سنگ زاد تھا

    تو بادباں دریدہ سفینے کا ناخدا

    اور قلزم سراب کا میں سندباد تھا

    اب ہوں زباں بریدہ تو یہ سوچ کر ہوں چپ

    یہ بھی سخن شناس کا انداز داد تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    یہ بات تو نہیں ہے کہ میں کم سواد تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے