یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے

افتخار عارف

یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے

    یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

    شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں

    مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

    سبک ظرفوں کے قابو میں نہیں لفظ

    مگر شوق گل افشانی بہت ہے

    ہے بازاروں میں پانی سر سے اونچا

    مرے گھر میں بھی طغیانی بہت ہے

    نہ جانے کب مرے صحرا میں آئے

    وہ اک دریا کہ طوفانی بہت ہے

    نہ جانے کب مرے آنگن میں برسے

    وہ اک بادل کہ نقصانی بہت ہے

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے افتخار عارف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY