یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

افتخار عارف

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

    دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

    کوئی فغاں کوئی نالہ کوئی بکا کوئی بین

    کھلے گا باب مقفل دعا کیے جائیں

    یہ اضطراب یہ لمبا سفر یہ تنہائی

    یہ رات اور یہ جنگل دعا کیے جائیں

    بحال ہو کے رہے گی فضائے خطۂ خیر

    یہ حبس ہوگا معطل دعا کیے جائیں

    گزشتگان محبت کے خواب کی سوگند

    وہ خواب ہوگا مکمل دعا کیے جائیں

    ہوائے سرکش و سفاک کے مقابل بھی

    یہ دل بجھیں گے نہ مشعل دعا کیے جائیں

    غبار اڑاتی جھلستی ہوئی زمینوں پر

    امنڈ کے آئیں گے بادل دعا کیے جائیں

    قبول ہونا مقدر ہے حرف خالص کا

    ہر ایک آن ہر اک پل دعا کیے جائیں

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں افتخار عارف

    مآخذ:

    • Book : Mahr-e-Do neem (Pg. 34)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY