یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے

جہانزیب ساحر

یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے

جہانزیب ساحر

MORE BYجہانزیب ساحر

    یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے

    ہمارے سامنے جب اس کی ذات ہوتی ہے

    ہر ایک بات کہ جس میں تمہارا ذکر نہیں

    وہ جیسے دوسرے مسلک کی بات ہوتی ہے

    ہمارے گاؤں میں سورج غروب ہو کہ نہ ہو

    کسی کے آنکھ لگانے سے رات ہوتی ہے

    مرے حروف مرا ضبط نوچ کھاتے ہیں

    ترے خیال کی جب واردات ہوتی ہے

    عجب طرح سے میں سب کو پچھاڑتا ہوں مگر

    عجب طرح سے ہمیشہ ہی مات ہوتی ہے

    یہ خامشی ہے تری آنکھ کی فسوں کاری

    یہ لفظ تیرے لبوں کی زکوٰۃ ہوتی ہے

    بس اتنا سوچ کے ساحرؔ میں اس سے کہتا نہیں

    کہ اس کے دھیان میں شاید وہ بات ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY