یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں

بسمل  عظیم آبادی

یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں

    خدا کے بندوں کو اپنا بنا کے بیٹھے ہیں

    ہمارے سامنے جب بھی وہ آ کے بیٹھے ہیں

    تو مسکرا کے نگاہیں چرا کے بیٹھے ہیں

    کلیجہ ہو گیا زخمی فراق جاناں میں

    ہزاروں تیر ستم دل پہ کھا کے بیٹھے ہیں

    تم ایک بار تو رخ سے نقاب سرکا دو

    ہزاروں طالب دیدار آ کے بیٹھے ہیں

    ابھر جو آتی ہے ہر بار موسم گل میں

    اک ایسی چوٹ کلیجے میں کھا کے بیٹھے ہیں

    یہ بت کدہ ہے ادھر آئیے ذرا بسملؔ

    بتوں کی یاد میں بندے خدا کے بیٹھے ہیں

    پسند آئے گی اب کس کی شکل بسملؔ کو

    نظر میں آپ جو اس کی سما کے بیٹھے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY