یہ چمک دھول میں تحلیل بھی ہو سکتی ہے

سید علی ظہیر

یہ چمک دھول میں تحلیل بھی ہو سکتی ہے

سید علی ظہیر

MORE BY سید علی ظہیر

    یہ چمک دھول میں تحلیل بھی ہو سکتی ہے

    کائنات اک نئی تشکیل بھی ہو سکتی ہے

    تم نہ سمجھو گے کوئی اور سمجھ لے گا اسے

    خامشی درد کی ترسیل بھی ہو سکتی ہے

    کچھ سنبھل کر رہو ان سادہ ملاقاتوں میں

    دوستی عشق میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے

    میں ادھورا ہوں مگر خود کو ادھورا نہ سمجھ

    مجھ سے مل کر تری تکمیل بھی ہو سکتی ہے

    کاٹنا رات کا آسان بھی ہو سکتا ہے

    دل میں اک یاد کی قندیل بھی ہو سکتی ہے

    اس قدر بھی نہ بڑھو دامن دل کی جانب

    یہ محبت کوئی تمثیل بھی ہو سکتی ہے

    ہاں دل و جان فدا کردہ ظہیرؔ اس پہ مگر

    یہ بھی امکان ہے تذلیل بھی ہو سکتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY