یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

ناظم سلطانپوری

یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

ناظم سلطانپوری

MORE BYناظم سلطانپوری

    یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

    بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے

    مرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے

    تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے

    یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا

    بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے

    امنڈ پڑی ہے خدائی عجیب عالم ہے

    سنا گیا وہ سزائے دوام کس کے لیے

    بہت کٹھن ہے محبت کی ناز برداری

    وہ شخص چھوڑ گیا ہے یہ کام کس کے لیے

    یہ راہ و رسم زمانے سے کس کی خاطر ہے

    یہ ہر کسی سے دعا و سلام کس کے لیے

    وہی جو خون کے پیاسے تھے کل تلک ناظمؔ

    یہ میٹھے بول یہ شیریں کلام کس کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے