یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

عرش ملسیانی

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

    انگور کی مے کے دھوکے میں زہراب کا پینا مشکل ہے

    جب ناخن وحشت چلتے تھے روکے سے کسی کے رک نہ سکے

    اب چاک دل انسانیت سیتے ہیں تو سینا مشکل ہے

    اک صبر کے گھونٹ سے مٹ جاتی تب تشنہ لبوں کی تشنہ لبی

    کم ظرفیٔ دنیا کے صدقے یہ گھونٹ بھی پینا مشکل ہے

    وہ شعلہ نہیں جو بجھ جائے آندھی کے ایک ہی جھونکے سے

    بجھنے کا سلیقہ آساں ہے جلنے کا قرینہ مشکل ہے

    کرنے کو رفو کر ہی لیں گے دنیا والے سب زخم اپنے

    جو زخم دل انساں پہ لگا اس زخم کا سینہ مشکل ہے

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے

    اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے

    ملنے کو ملے گا بالآخر اے عرشؔ سکون ساحل بھی

    طوفان حوادث سے لیکن بچ جائے سفینہ مشکل ہے

    مآخذ :
    • کتاب : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 58)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY