یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے

شاد عظیم آبادی

یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے

    پئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہے

    نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے

    ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے

    تصور اس رخ صافی کا رکھ مد نظر ناداں

    لگائے منہ جو آئینے کو آئینہ اسی کا ہے

    یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی

    جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

    کدر ہو یا کہ صافی سب کو پی کر مست ہو جائے

    یہ ہم رندوں کا پینا کچھ نہیں پینا اسی کا ہے

    تماشا دیکھنا غیروں کے گھر کو پھونک کر کیسا

    جو اپنی آگ میں جل جائے خود کینہ اسی کا ہے

    فضائے دہر میں یہ سیر گہ جس نے بنا دی ہے

    تماشائی جہاں میں دیدۂ بینا اسی کا ہے

    بسر ہو میکدے میں پنج شنبہ بیٹھ کر جس کا

    جو مے نوشی میں کر دے صبح آدینہ اسی کا ہے

    امیدیں جب بڑھیں حد سے طلسمی سانپ ہیں ناصح

    جو توڑے یہ طلسم اے دوست گنجینہ اسی کا ہے

    مبارک ہیں یہ سب راتیں جو پینے میں کٹیں رندو

    گزارے یوں جو شب ہفتے کی آدینہ اسی کا ہے

    خدا لگتی کہے اے شادؔ جو اس پیر کے حق میں

    یقیں سمجھو دعا گو بھی یہ دیرینہ اسی کا ہے

    کدورت سے دل اپنا صاف رکھو شادؔ پیری ہے

    کہ جس کو منہ دکھانا ہے یہ آئینہ اسی کا ہے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY