یہ فضائے نیلگوں یہ بال و پر کافی نہیں

حنیف فوق

یہ فضائے نیلگوں یہ بال و پر کافی نہیں

حنیف فوق

MORE BYحنیف فوق

    یہ فضائے نیلگوں یہ بال و پر کافی نہیں

    ماہ و انجم تک مرا ذوق سفر کافی نہیں

    ایک ساعت اک صدی ہے اک نظر آفاق گیر

    اب نظام گردش شام و سحر کافی نہیں

    پھر جنوں کو وسعت افلاک ہے کوہ ندا

    اے دل دیوانہ دشت پر خطر کافی نہیں

    یہ ہوائے نم یہ سینے میں سلگتی آگ سی

    آہ یہ عمر رواں کی رہگزر کافی نہیں

    پھر مشیت سے الجھتی ہے مری دیوانگی

    نالۂ شبگیر اشکوں کے گہر کافی نہیں

    آرزوئے بے کراں ہے اور جسم ناتواں

    کیا رگ جاں کے لیے یہ نیشتر کافی نہیں

    خنکیٔ شبنم سے غنچہ کو نہیں تسکین قلب

    زخم گل کو اب نسیم چارہ گر کافی نہیں

    شیشۂ شب میں بھری ہے فوقؔ جو صہبائے کیف

    قطرہ قطرہ بھی پیوں تو رات بھر کافی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY