یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے

احمد کمال پروازی

یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے

احمد کمال پروازی

MORE BYاحمد کمال پروازی

    یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے

    سفر طویل ہے پانی بچا کے چلنا ہے

    بس اس خیال سے گھبرا کے چھٹ گئے سب لوگ

    یہ شرط تھی کہ قطاریں بنا کے چلنا ہے

    وہ آئے اور زمیں روند کر چلے بھی گئے

    ہمیں بھی اپنا خسارہ بھلا کے چلنا ہے

    کچھ ایسے فرض بھی ذمے ہیں ذمہ داروں پر

    جنہیں ہمارے دلوں کو دکھا کے چلنا ہے

    شناسا ذہنوں پہ طعنے اثر نہیں کرتے

    تو اجنبی ہے تجھے زہر کھا کے چلنا ہے

    وہ دیدہ ور ہو کہ شاعر کہ مسخرہ کوئی

    یہاں سبھی کو تماشہ دکھا کے چلنا ہے

    وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں

    تمام جسم کو کاسہ بنا کے چلنا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Chandi Ka waraq (Pg. 19)
    • Author : Ahmad Kamal Parvazi
    • مطبع : Surkhwab Publication (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY