یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھا

نبیل احمد نبیل

یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھا

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھا

    تری تلاش میں مجھ کو غبار ہونا تھا

    اچک لیا ہے انہیں بھی خزاں کے موسم نے

    وہ پھول پات کہ جن کو بہار ہونا تھا

    ہمیں خبر تھی تری طرز بادشاہی سے

    ہنر وروں کو ہی بے اختیار ہونا تھا

    انہی کے ہاتھ گریبان میں پڑے ہوئے ہیں

    جنہیں سدا سے ہی خدمت گزار ہونا تھا

    گماں کی دھول مرے دل پہ مل گیا ہے وہی

    وہ شخص جس کو مرا اعتبار ہونا تھا

    بھروسہ غیر کی چھاؤں پہ ہم نہ کرتے اگر

    سروں پہ سایۂ پروردگار ہونا تھا

    بدل دیا انہیں مٹی کے برتنوں میں نبیلؔ

    وہ چیزیں جن کو بہت پائیدار ہونا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY