یہ ہیں تیراک مگر حال یہ ان کے دیکھے

نظیر باقری

یہ ہیں تیراک مگر حال یہ ان کے دیکھے

نظیر باقری

MORE BYنظیر باقری

    یہ ہیں تیراک مگر حال یہ ان کے دیکھے

    غرق ہوتے ہوئے طوفان میں تنکے دیکھے

    چھین لیتے ہیں جو انسان سے احساس نظر

    وہ اندھیرے کسی شب کے نہیں دن کے دیکھے

    آ گیا یاد انہیں اپنے کسی غم کا حساب

    ہنسنے والوں نے مرے اشک جو گن کے دیکھے

    وہ عجب شان کا گھر ہے کہ جہاں پر سب لوگ

    ایک ہی شکل کے اور ایک ہی سن کے دیکھے

    یہ غلط ہے کہ ردا لے کے ستم گروں نے

    ان کے منہ دیکھ لیے پاؤں نہ جن کے دیکھے

    مآخذ:

    • کتاب : Etemaad (Pg. 9)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY