یہ ہجرتوں کا زمانا بھی کیا زمانا ہے

سید سروش آصف

یہ ہجرتوں کا زمانا بھی کیا زمانا ہے

سید سروش آصف

MORE BYسید سروش آصف

    یہ ہجرتوں کا زمانا بھی کیا زمانا ہے

    انہیں سے دور ہیں جن کے لیے کمانا ہے

    خوشی یہ ہے کہ مرے گھر سے فون آیا ہے

    ستم یہ ہے کہ مجھے خیریت بتانا ہے

    ہمیں یہ بات بہت دیر میں سمجھ آئی

    وہیں تو جال بچھا ہے جہاں بھی دانہ ہے

    ہمیں جلا نہیں سکتی ہے دھوپ ہجرت کی

    ہمارے سر پہ ضرورت کا شامیانہ ہے

    نماز عید کی پڑھ کر میں ڈھونڈھتا ہی رہا

    کہیں دکھے کوئی اپنا گلے لگانا ہے

    وہیں وہیں لیے پھرتی ہے گردش دوراں

    جہاں جہاں بھی لکھا میرا آب و دانہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY