یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے

اعجاز توکل

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے

اعجاز توکل

MORE BYاعجاز توکل

    یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے

    اس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہے

    اب سامنے بنتا ہے مرا عکس تماشا

    یہ ہرزہ سرائی پس آئینہ نہیں ہے

    کچھ دن کی شناسائی شناسائی نہ سمجھو

    یہ خود سے تعلق مرا دیرینہ نہیں ہے

    احکام یہاں دل کے ہی چلتے ہیں کم و بیش

    یہ عشق ہے اس کی کوئی کابینہ نہیں ہے

    بنتے ہیں ہواؤں میں تمنا کے گھروندے

    یہ وہ ہیں مکاں جن میں کوئی زینہ نہیں ہے

    مرتا تو کوئی شخص نہیں ہجر میں پھر بھی

    یہ جینا مرے دوست کوئی جینا نہیں ہے

    ہیں درج سبھی دل پہ محبت کے خسارے

    یہ گن کے لکھے ہیں کوئی تخمینہ نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY