یہ جگر گوشے بھی جب فرمائشیں لے آئیں گے

محمد اویس  ملک

یہ جگر گوشے بھی جب فرمائشیں لے آئیں گے

محمد اویس ملک

MORE BYمحمد اویس ملک

    یہ جگر گوشے بھی جب فرمائشیں لے آئیں گے

    بیچ کر کچھ خواب ہم آسائشیں لے آئیں گے

    ہیں ابھی سادہ مگر اک دن یہی نوخیز پھول

    اس چمن میں نت نئی آرائشیں لے آئیں گے

    اے گل برباد وہ قزاق موسم جب ملا

    چھین کر واپس تری زیبائشیں لے آئیں گے

    فتویٰ و قانون بس ہم کج رووں پر سخت ہیں

    آپ جب چاہیں گے کچھ گنجائشیں لے آئیں گے

    ہم نے کب سوچا تھا اتنے صاف طینت لوگ بھی

    دل ہی دل میں اس قدر آلائشیں لے آئیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY