یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں

امام بخش ناسخ

یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں

    کہ جیسے روح نہاں ہے بدن کے پردے میں

    سوائے اہل سخن ہو مشاہدہ کس کو

    نہاں ہے شاہد معنی سخن کے پردے میں

    تلاش جس کی ہے دن رات تجھ کو اے غافل

    چھپا ہوا ہے وہ تیرے ہی تن کے پردے میں

    جو عندلیب کی آنکھوں سے دیکھے وہ سمجھے

    ظہور ہے اسی گل کا چمن کے پردے میں

    شب سیاہ جدائی میں روشنی ہو کہیں

    لگاؤں آگ میں بیت الحزن کے پردے میں

    طریق عشق چھڑایا ہے تو نے غارت گر

    ملا ہے خضر مجھے راہزن کے پردے میں

    لطافت ایسی ہے تجھ میں کہ دیکھتا ہوں صاف

    گہر سے دانت ہیں درج دہن کے پردے میں

    برنگ زر کوئی کپڑوں میں آگ رہتی ہے

    نہ میرے داغ چھپیں گے کفن کے پردے میں

    نقاب سے ترے ابرو جو سلخ کو کھل جائیں

    تو ماہ نور ہے چرخ کہن کے پردے میں

    اگر تم آئے تھے شیریں کے بھیس میں صاحب

    تو ساتھ بندہ بھی تھا کوہ کن کے پردے میں

    نمود ہو نہ ترے خط عنبر افشاں کی

    رہے وہ جلد عذار و ذقن کے پردے میں

    چمن میں لائی صبا کس کی بو جو آج شمیم

    دمک رہی ہے گل یاسمن کے پردے میں

    نظر سے تھا شرر سنگ کی طرح جو نہاں

    وہ بت ملا مجھے اک بت شکن کے پردے میں

    تمہارے روئے مخطط کا منہ چڑھاتے ہیں

    یہ مہر و ماہ پری رو گہن کے پردے میں

    ہزاروں پڑ گئے تیر نگاہ سے سوراخ

    ہمارے اس بت ناوک فگن کے پردے میں

    خبر نہ شام غریبی کی مجھ کو تھی ناسخؔ

    چھپی ہوئی تھی یہ صبح وطن کے پردے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY