یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیں

احسان گھمن

یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیں

احسان گھمن

MORE BYاحسان گھمن

    یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیں

    تم سمجھتے ہو کہ بیکار میں اگ آتے ہیں

    ہم نہیں دیکھتے زرخیز زمینوں کی طرف

    ہم وہ پودے ہیں جو دیوار میں اگ آتے ہیں

    جتنی رفتار سے تم کاٹتے جاتے ہو ہمیں

    پھر سے ہم اتنی ہی مقدار میں اگ آتے ہیں

    جن کو گلدان میں رکھنا نہیں آیا ہے ہمیں

    پھول وہ وحشت کہسار میں اگ آتے ہیں

    سب کو سرداری بزرگی سے نہیں ملتی ہے

    ایسے سر بھی ہیں جو دستار میں اگ آتے ہیں

    اپنے اوصاف نہیں بھولتے احسانؔ کبھی

    بیج پھل پھول جو اشجار میں اگ آتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY