یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا

ثروت حسین

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا

ثروت حسین

MORE BYثروت حسین

    یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا

    روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہوگا

    زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی

    ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہوگا

    گھائل پنچھی تیری کنج میں آن گرا ہے

    اس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہوگا

    میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں

    یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہوگا

    شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گا

    لیکن اس کو چومنے والا پھر نہیں ہوگا

    ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو

    جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY